30 دسمبر 1972

چار طاقتوں کی کمی یا زیادتی سے جسم انسانی میں پیدا ہونے والے امراض

چار طاقتوں کی کمی یا زیادتی سے جسم انسانی میں پیدا ہونے والے امراض:نوع انسانی کی ساخت کے پیش نظر یہ جاننا ضروری ہے کہ فی الواقع انسان کیا ہے؟ عام طور سے گوشت پوست سے مرکب جسم اور ہڈیوں کی پنجر پر رگ پٹھوں کی بناوٹ کو انسان کا نام دیا جاتا ہے لیکن ہمارا روز مرہ کا مشاہدہ یہ ہے کہ گوشت کا جسم انسان کہلانے کا مستحق نہیں ہے ۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ انسان پر جب وہ کیفیت وارد ہوجاتی ہے جس کو موت کا نام دیا جاتا ہے تو جسم کے اندر کوئی تبدیلی رو نما ہونے کے باوجود جسم ہر قسم کی حرکات و سکنات سے محروم ہوجاتا ہے ، مرنے کے بعد جسم کو زدو کوب کیجئے، ایک ایک عضو الگ الگ کر دیجئے، الٹئے، پلٹئے، گھسیٹئے، جسم کی طرف سے کوئی مدافعت نہیں ہوتی، بات واضح اور صاف ہے کہ جس چیز پر جسم کی حرکات و سکنات کا دارومدار تھا، اس نے جسم سے اپنا رشتہ منقطع کرلیا ہے۔
 اب ہم یوں کہیں گے کہ در اصل انسان وہ ہے جو اس گوشت و پوست کے جسم کو حرکت دیتا ہے ، عرف عام میں اس کو روح کہا جاتا ہے۔ اب یہ تلاش کرنا ضروری ہوگیا ہے کہ روح کیا ہے؟ روح کے بارے میں قران پاک کا ارشاد ہے " روح امررب ہے" ، اللہ تعالیٰ کا یہ بھی ارشادہے کہ انسان ناقابل تذکرہ شئے تھاہم نے اس کے اندر اپنی روح پھونک دی۔ یہ دیکھتا ، سنتا، سونگھتا اور محسوس کرتا انسان بن گیا ۔ روح امررب ہے۔ اور امر رب یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہتاہے ہوجا، اور وہ چیز وجود میں آجاتی ہے۔ مفہوم یہ ہے کہ انسان اور امر یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کو تخلیق کرنے کا ارادہ کرتا ہے حرکت میں آکر اس چیز کو تخلیق کر دیتا ہے۔
 اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی تخلیق کے فارمولے (EQUATIONS) بنائے ہیں اور ہر فارمولامعین مقدار کی تحت سرگرم عمل ہے۔ ۳۰ ویں پارے میں ارشادباری تعالیٰ ہے ۔ ہم نے ہر چیز کو معین مقدار وں سے تخلیق کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے لئے ارشاد فرماتے ہیں: میں تخلیق کرنے والوں میں بہترین خالق ہوں (احسن الخالقین) ۔ یعنی یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بھی تخلیقی اوصاف عطا کئے ہیں۔
 تخلیق دوام کی ہوتی ہے۔ ایک اللہ تعالیٰ کی تخلیق ، دوسری اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ اختیارات سے انسان کی تخلیق۔ 
 الجھنیں، پریشانی ، اضطراب، ذہنی کشاکش، اعصابی کشمکش احساس محرومی اور نت نئی بے شمار بیماریاں انسانی تخلیق کے زمرہ میں آتی ہیں۔
 ہم یہ بتا چکے ہیں کہ اصل انسان روح ہے۔ ظاہر ہے ، روح اضطراب ، کشاکش، احساس محرومی اور بیماریوں سے ماوریٰ ہے۔ روح اپنے اور جسم کے درمیان ایک میڈیم(MEDIUM) بناتی ہے اس میڈیم کو ہم جسم انسانی اور روح کے درمیان ایک فعال نظر نہ آنے والا انسان کہ سکتے ہیں ۔ یہ نظر نہ آنے والا انسان بھی با اختیار ہے ۔ اس کو یہ اختیار حاصل ہے کہ روح کی فراہم کردہ اطلاعات کو اپنی مرضی سے معافی پہنا سکے۔  
جس طرح روح میں معین فارمولے (EQUATIONS) کام کرتے ہیں، اسی طرح روح اور جسم کے درمیان نظر نہ آنے والا جسم بھی معین فارمولوں کے تحت حرکت اور عمل کرتا ہے اس میں اربوں کھربوں فارمولے کام کرتے ہیں جن کو ہم چار عنوانات میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ 
  1.  واٹر انرجیWATER ENERGY 
  2. الیکٹرک انرجیELECTRIC ENERGY 
  3. ہیٹ انرجیHEAT ENERGY 
  4. ونڈ انرجی WIND ENERGY
 ہم اپنے قارئین کو یہ بتلا چکے ہیں کہ انسان کے اندر دو دماغ کام کرتے ہیں۔ دماغ نمبر ایک براہ راست اطلاعات قبول کرتا ہے اور دماغ نمبر ۲ ان اطلاعات کو اپنے مفید مطلب یا غیر مفید مطلب معافی پہنانے میں قادر ہے۔ جب دماغ نمبر ۲ مفید مطلب ، غیر صالح اور تخریبی معافی پہنانے کا عادی ہوجاتا ہے تو معین مقداروں میں سقم واقع ہونے لگتا ہے۔ اور مذکورہ بالا انرجیسENERGIES اپنے صحیح خدوخال کھو بیٹھتی ہیں۔ 
واٹر انرجی کی تراش خراش یا اضافہ سے استسقاء، پلوریسی، فیل پا، بہرہ اور گونگا پن، موتیا بند اور کالا موتیا جیسے امراض وجود میں آجاتے ہیں۔
 الیکٹرک انرجی میں اگر سقم واقع ہوجائے اور معین مقدار میں ٹوٹ پھوٹ جائیں یا ان میں اضافہ ہوجائے تو نتیجہ میں آتشک، سوزاک، جذام، کوڑھ، برص، سرطان اور کینسر جیسے امراض پیدا ہوجاتے ہیں۔ 
ونڈ انرجی کی شکست وریخت اور معین مقداروں کے فقدان سے ، بواسیر، نواسیر، بھگندر اورفسچولا وغیرہ کے امراض تخلیق پاتے ہیں۔
 ہیٹ انرجی کی معین مقدار میں متاثر ہونے کے بعد لقوہ ، فالج ، ہائی بلڈ پریشر ، دمہ ، خلل دماغ ، مرگی، مالیخولیا اور نروس نیس NERVOUSNESS وغیرہ کا تانا بانا انسان کے اوپر مسلط ہوجاتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں