09 مئی 1977

سانس لیجئے لکنت سے نجات مل جائے گی

جب میں چھوٹی تھی تو میرے ایک ماموں اور ایک خالہ ہکلا کر بولتے تھے۔ میں بچپن میں ان کی نقل اتارتی تھی۔ جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہےاپنی زبان میں لکنت پائی ہے۔ حالانکہ میری امی کہتی ہیں کہ میں بچپن میں بہت صاف بولا کرتی تھی۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ جب میں بولتی ہوں تو کبھی کبھی تو بہت روانی سے بولتی ہوں اور کبھی ایک لفظ بولنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ میں بہت دھیمے دھیمے ٹھہر ٹھہر کر بولتی ہوں۔ کسی نے مجھے بتایا کہ کھجور کی گٹھلی یا املی کا بیج منہ میں رکھ کر بولو۔ لیکن مجھے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ کلاس میں سبق یاد ہو تب بھی نہیں سنا پاتی جس کی وجہ سے ڈانٹ پڑتی ہے اور شرمندگی علیحدہ اٹھانی پڑتی ہے۔ جب غصہ آتا ہے تو ایک لفظ بولنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ امید ہے آپ میری پریشانی کو سمجھتے ہوئے اس کو دور کرکے شکریہ کا موقع دیں گے۔
جواب: سورج نکلنے سے پہلے شمال رخ بیٹھ کر ناک سے سانس لیجئے اور منہ سے نکال دیجئے۔ سانس نکالتے وقت منہ گولائی میں کھلنا چاہئے جس طرح سیٹی بجاتے وقت ہوجاتا ہے۔ جب سانس باہر نکالیں تو زبان کی نوک دانتوں کے قریب کر لیجئے تاکہ زبان میں تھوڑا سا خم آجائے۔ دو مہینے روزانہ بلاناغہ اس عمل کو برقرار رکھئے۔

30 دسمبر 1972

چار طاقتوں کی کمی یا زیادتی سے جسم انسانی میں پیدا ہونے والے امراض

چار طاقتوں کی کمی یا زیادتی سے جسم انسانی میں پیدا ہونے والے امراض:نوع انسانی کی ساخت کے پیش نظر یہ جاننا ضروری ہے کہ فی الواقع انسان کیا ہے؟ عام طور سے گوشت پوست سے مرکب جسم اور ہڈیوں کی پنجر پر رگ پٹھوں کی بناوٹ کو انسان کا نام دیا جاتا ہے لیکن ہمارا روز مرہ کا مشاہدہ یہ ہے کہ گوشت کا جسم انسان کہلانے کا مستحق نہیں ہے ۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ انسان پر جب وہ کیفیت وارد ہوجاتی ہے جس کو موت کا نام دیا جاتا ہے تو جسم کے اندر کوئی تبدیلی رو نما ہونے کے باوجود جسم ہر قسم کی حرکات و سکنات سے محروم ہوجاتا ہے ، مرنے کے بعد جسم کو زدو کوب کیجئے، ایک ایک عضو الگ الگ کر دیجئے، الٹئے، پلٹئے، گھسیٹئے، جسم کی طرف سے کوئی مدافعت نہیں ہوتی، بات واضح اور صاف ہے کہ جس چیز پر جسم کی حرکات و سکنات کا دارومدار تھا، اس نے جسم سے اپنا رشتہ منقطع کرلیا ہے۔
 اب ہم یوں کہیں گے کہ در اصل انسان وہ ہے جو اس گوشت و پوست کے جسم کو حرکت دیتا ہے ، عرف عام میں اس کو روح کہا جاتا ہے۔ اب یہ تلاش کرنا ضروری ہوگیا ہے کہ روح کیا ہے؟ روح کے بارے میں قران پاک کا ارشاد ہے " روح امررب ہے" ، اللہ تعالیٰ کا یہ بھی ارشادہے کہ انسان ناقابل تذکرہ شئے تھاہم نے اس کے اندر اپنی روح پھونک دی۔ یہ دیکھتا ، سنتا، سونگھتا اور محسوس کرتا انسان بن گیا ۔ روح امررب ہے۔ اور امر رب یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہتاہے ہوجا، اور وہ چیز وجود میں آجاتی ہے۔ مفہوم یہ ہے کہ انسان اور امر یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کو تخلیق کرنے کا ارادہ کرتا ہے حرکت میں آکر اس چیز کو تخلیق کر دیتا ہے۔
 اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی تخلیق کے فارمولے (EQUATIONS) بنائے ہیں اور ہر فارمولامعین مقدار کی تحت سرگرم عمل ہے۔ ۳۰ ویں پارے میں ارشادباری تعالیٰ ہے ۔ ہم نے ہر چیز کو معین مقدار وں سے تخلیق کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے لئے ارشاد فرماتے ہیں: میں تخلیق کرنے والوں میں بہترین خالق ہوں (احسن الخالقین) ۔ یعنی یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بھی تخلیقی اوصاف عطا کئے ہیں۔
 تخلیق دوام کی ہوتی ہے۔ ایک اللہ تعالیٰ کی تخلیق ، دوسری اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ اختیارات سے انسان کی تخلیق۔ 
 الجھنیں، پریشانی ، اضطراب، ذہنی کشاکش، اعصابی کشمکش احساس محرومی اور نت نئی بے شمار بیماریاں انسانی تخلیق کے زمرہ میں آتی ہیں۔
 ہم یہ بتا چکے ہیں کہ اصل انسان روح ہے۔ ظاہر ہے ، روح اضطراب ، کشاکش، احساس محرومی اور بیماریوں سے ماوریٰ ہے۔ روح اپنے اور جسم کے درمیان ایک میڈیم(MEDIUM) بناتی ہے اس میڈیم کو ہم جسم انسانی اور روح کے درمیان ایک فعال نظر نہ آنے والا انسان کہ سکتے ہیں ۔ یہ نظر نہ آنے والا انسان بھی با اختیار ہے ۔ اس کو یہ اختیار حاصل ہے کہ روح کی فراہم کردہ اطلاعات کو اپنی مرضی سے معافی پہنا سکے۔  
جس طرح روح میں معین فارمولے (EQUATIONS) کام کرتے ہیں، اسی طرح روح اور جسم کے درمیان نظر نہ آنے والا جسم بھی معین فارمولوں کے تحت حرکت اور عمل کرتا ہے اس میں اربوں کھربوں فارمولے کام کرتے ہیں جن کو ہم چار عنوانات میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ 
  1.  واٹر انرجیWATER ENERGY 
  2. الیکٹرک انرجیELECTRIC ENERGY 
  3. ہیٹ انرجیHEAT ENERGY 
  4. ونڈ انرجی WIND ENERGY
 ہم اپنے قارئین کو یہ بتلا چکے ہیں کہ انسان کے اندر دو دماغ کام کرتے ہیں۔ دماغ نمبر ایک براہ راست اطلاعات قبول کرتا ہے اور دماغ نمبر ۲ ان اطلاعات کو اپنے مفید مطلب یا غیر مفید مطلب معافی پہنانے میں قادر ہے۔ جب دماغ نمبر ۲ مفید مطلب ، غیر صالح اور تخریبی معافی پہنانے کا عادی ہوجاتا ہے تو معین مقداروں میں سقم واقع ہونے لگتا ہے۔ اور مذکورہ بالا انرجیسENERGIES اپنے صحیح خدوخال کھو بیٹھتی ہیں۔ 
واٹر انرجی کی تراش خراش یا اضافہ سے استسقاء، پلوریسی، فیل پا، بہرہ اور گونگا پن، موتیا بند اور کالا موتیا جیسے امراض وجود میں آجاتے ہیں۔
 الیکٹرک انرجی میں اگر سقم واقع ہوجائے اور معین مقدار میں ٹوٹ پھوٹ جائیں یا ان میں اضافہ ہوجائے تو نتیجہ میں آتشک، سوزاک، جذام، کوڑھ، برص، سرطان اور کینسر جیسے امراض پیدا ہوجاتے ہیں۔ 
ونڈ انرجی کی شکست وریخت اور معین مقداروں کے فقدان سے ، بواسیر، نواسیر، بھگندر اورفسچولا وغیرہ کے امراض تخلیق پاتے ہیں۔
 ہیٹ انرجی کی معین مقدار میں متاثر ہونے کے بعد لقوہ ، فالج ، ہائی بلڈ پریشر ، دمہ ، خلل دماغ ، مرگی، مالیخولیا اور نروس نیس NERVOUSNESS وغیرہ کا تانا بانا انسان کے اوپر مسلط ہوجاتا ہے۔

01 جون 1972

الیکٹرک شاکس اور ریڑھ کی ہڈی کا پانی

۳ سال قبل دونوں ہاتھ کی کہنیوں کے جوڑ کے اوپر گوشت پھڑکنا شروع ہوا۔ تین ماہ بعد جسم کے دوسرے حصوں کا گوشت بھی پھڑکنے لگا۔ پھر پیروں کے تلوؤں کا گوشت مستقل پھڑکنے لگا۔ ڈاکٹروں کے بورڈ نے معائنہ کیا اور اسپتال میں داخل کرلیا۔ الیکٹرک شاکس لگائے گئے اور ریڑھ کی ہڈی سے پانی بھی نکالا گیا۔ لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اب صورت یہ ہے کہ ہاتھ پیروں کا گوشت، دونوں کندھوں کا گوشت، دونوں بغلوں کا گوشت اور کولہوں کا گوشت باالترتیب وقفہ وقفہ سے پھڑکتا رہتا ہے۔ لکھتے وقت اور زیادہ دیر تک ایک جگہ دیکھنے سے جسم کا پورا گوشت پھڑکنا شروع ہوجاتا ہے۔ میں ایک ادارہ میں 150/- روپے  ماہانہ پر ملازمت کرتا ہوں۔ اس تنخواہ پر گھر کا کسی نہ کسی طرح گزارہ ہوتا ہے۔
جواب: اَلرَّضَاعَتْ عَمَا نَوِیْلْ زعفران کی روشنائی سے پلیٹوں پر لکھ کر صبح نہار منہ اور رات سوتے وقت پانی سے دھوکر تین ماہ تک پئیں۔ فائدہ انشاءاللہ اکیس روز میں ہوجائیگا لیکن نوے دن تک علاج جاری رکھیں۔ کھانوں میں بنولہ کا تیل دونوں وقت روٹی پر چپڑ کر کھائیں۔

گرم غذاؤں سے پسینہ میں بدبو پیدا ہوجاتی ہے

میرے پسینے میں اس قدر بو آتی ہے کہ ساتھ بیٹھنے والے لوگ ناک پر رومال رکھ لیتے ہیں۔ بعض اوقات میں خود بھی اس تعفن سے بھری ہوئی بُو سے پریشان ہوجاتا ہوں۔
جواب: گرم مصالحہ، تیز نمک مرچ والی غذاؤں سے چند ماہ پرہیز کریں۔ گوشت، مچھلی، انڈہ بھی نہ کھائیں۔ غذا میں زیادہ تر سبزیاں اور ٹھنڈی چیزیں استعمال کریں۔

02 نومبر 1971

سبز چنبیلی کے پھول برص کا بے نظیر علاج ہیں

محمود ۔کوئٹہ، ایک بہن۔کراچی: آٹھ برس سے برص جیسے موذی مرض میں مبتلا ہوں۔ علاج سے اتنا فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ داغ بڑھتے نہیں ہیں۔ لیکن بالکل ختم بھی نہیں ہوتے۔ علاج تو میں کراچی میں کرا رہا ہوں آپ برص سے نجات پانے کےلئے وظیفہ تجویذ کردیں۔
میں ایک مشرقی لڑکی ہوں آپ کو اپنا بڑا بھائی تصور کرکے خط لکھ رہی ہوں۔ امید ہے کہ آپ اپنی بہن کو مایوس نہیں کریں گے اور میرے مرض کےلئے علاج تجویذ کردیں گے۔
جواب: تین عدد سفید چینی کی پلیٹیں بازار سے نئی خریدیں اور ان کے اوپر زعفران کے پانی سے 
قُلْ ھُوَ الْمُعِیْنْ یَا مَعْرُوْفُ الْمَنَّانْ وَالْحَلِیْمْ
تین مرتبہ سورج نکلنے سے پہلے لکھ لیں اور صبح دوپہر شام ایک ایک پلیٹ پانی سے دھوکر چالیس دن تک پئیں۔ اور نہارمنہ سبز چنبیلی کے پھولوں کو چائے کی طرح دم دے کر روزانہ تین ہفتہ تک کوئی چیز ملائے بغیر پئیں۔ انشاءاللہ برص کے داغوں سے نجات مل جائے گی۔

01 نومبر 1971

چہرہ کی کشش اور پروقار شخصیت کا عمل

کوثر۔ حیدر آباد: مجھے ایسا وظیفہ بتادیجئے جس سے میری شخصیت میں وقار، چہرہ میں دلکشی اور آنکھوں میں چمک پیدا ہوجائے۔ میں سورۂ یوسف کی آیت کا وظیفہ پڑھ سکتا ہوں۔ کوئی عمل بتا دیجئے۔
جواب: چہرہ میں کشش اور پروقار شخصیت کےلئےآپ سفید رنگ کی پلیٹ پر مندجہ ذیل نقوش بنائیں اور صبح نہار منہ پلیٹ دھوکر پی لیا کریں۔ یہ عمل نوے دن کرنے کا ہے۔ انشاءاللہ آپ کا مقصد حاصل ہوجائے گا۔ یہ نقوش زعفران کے پانی سے پلیٹ پر لکھے جائیں۔


ایم۔اے۔آر۔ ٹنڈو الہ یار: گردن، ٹھوڑی اور ہونٹ پر مونچھوں کے بال اگ آئے ہیں۔ ڈرتی ہوں کہ کہیں بڑے نہ ہوجائیں۔ چہرہ ہر وقت چکنا رہتا ہے۔ منہ دھونے کے چند منٹ بعد پھر چکنا ہوجاتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ چہرے پر تیل ملا ہوا ہے۔
جواب: آپ چکنائی اور مٹھاس زیادہ استعمال کرتی ہیں۔ اگر آپ ابھی موٹی نہیں ہوتی ہیں تو بہت جلد موٹاپا آپ کے وجود میں پھیل جائے گا اور جسمانی تناسب بدہئیت ہوجائے گا۔ میرا مشورہ ہے کہ چکنائی اور زیادہ مٹھاس کھانا ترک کردیجئے۔ نمک بھی بہت کم استعمال کیا جائے۔ کسی ہوشیار لیڈی ڈاکٹر سے رجوع کیجئے۔ تساہل اور شرم بعض اوقات مرض کو پیچیدہ بنا دیتی ہے۔

ن۔خ۔ کراچی: میں بہت زیادہ کالے رنگ کی لڑکی ہوں کوئی عمل بتادیجئے کہ میرا رنگ صاف ہوجائے۔
جواب: رات کو سوتے وقت اور صبح ناشتہ سے ایک گھنٹہ پہلےڈبہ کے دودھ میں خالص شہد ملاکر پی لیا کیجئے۔ ڈبہ کا دودھ پاؤڈر کا ہونا چاہئے۔ پاؤڈر گھول کر دودھ بناتا ہے۔

ن۔پ۔ر۔کراچی: آنکھوں میں حلقے پڑگئے ہیں۔ آنکھوں کے نیچے سیاہ رنگ کی جھائیاں ہیں۔ چہرہ کی چمک بالکل ختم ہوگئی ہے۔ ناک بہت موٹی اور آنکھیں بہت چھوٹی ہیں۔
جواب: سیاہ حلقے اور جھائیاں ـ نسوانی مرض کی علامت ہیں۔ براہ کرم کسی ہوشیار لیڈی ڈاکٹر سے پرہیز کے ساتھ مکمل علاج کرائیے۔

ر۔س۔ سنگاپور: آپ نے بھائی جان کے سرخ رنگ داغوں کے لئےروغن سورنجان تلخ تجویذ کیا تھا۔ آٹھ دن ہوگئے ہیں داغ ویسے کے ویسے ہی ہیں لیکن اتنا فرق ضرور ہوا ہے کہ داغ جو چہرے پر نمایاں تھا اب کم ہوگیا ہے۔ یعنی غور سے دیکھنے پرنظر آتا ہے پہلے کی طرح دور سے نظر نہیں آتا۔
جواب: آپ کے بھائی جان روغن سورنجان تلخ استعمال کرتے رہیں۔ انشاءاللہ داغ دھبّے سب ختم ہوجائیں گے۔

01 اکتوبر 1971

پھیلی ہوئی ناک چہرے پر بری لگتی ہے

شمیم حسن: میری ناک بہت پھیلی ہوئی ہے جس کی وجہ سے بہت بد نما معلوم ہوتی ہے۔ رنگ  بھی سانولا ہے۔ میرے یہ دونوں مسائل حل کردیں کیونکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ شادی کے معاملہ میں یہ حائل ہوں۔
جواب: سورۂ یوسف کی آیت
 قَالَ يَا بُشْرَىٰ هَٰذَا غُلَامٌ ۚ وَأَسَرُّوهُ بِضَاعَةً ۚ 
ایک سو مرتبہ پڑھکر ہاتھوں پر دم کریں اور ہاتھ چہرہ پر پھیر لیں اور گفتگو کئے بغیر سوجائیں۔ نوے دن تک

کمر میں چک آگئی

ایس۔اے۔ مانسہرہ:  ۱۵ سال سے میری کمر میں مستقل درد ہے۔ اس کی ابتداء اس دن سے ہوئی جب میں نے اپنی محترمہ دادی صاحبہ کو جو فالج کی مریضہ ہیں سہارا دے کر اٹھانے کی کوشش کی۔ ہر قسم کا علاج کروالیا لیکن بے سود۔ نیز میرے بال تیزی سے سفید ہوتے جارہے ہیں۔ اب گنتی کے چند بال سیاہ رہ گئے ہیں۔ آپ سے درخواست ہے کہ میری دونوں تکالیفوں کا کوئی حل تجویذ فرمائیں۔
جواب: دو حصے باجرہ اور ایک حصہ چاول کی کھچڑی پکائیے۔ ایک ہفتہ تک روزانہ ایک وقت صرف باجرہ کی کھچڑی کھائیے۔ کمر کہ اس درد سے نجات مل جائے گی۔ بالوں کو سیاہ کرنے کے لئے ہلیلہ سیاہ کوٹ چھان کر سفوف بنالیں۔ رات سوتے وقت کھانا کھانے کے تین گھنٹہ بعد ۶ ماشہ(ایک کھانے کا چمچ) یہ سفوف پانی کے ساتھ کھالیا کیجئے ۔ چھہ مہینے کے متواتر عمل سے انشاء اللہ بال کالے ہوجائیں گےاور آپکی عام صحت بھی عمدہ ہوجائے گی۔ چھہ مہینے کے عرصہ میں بڑا گوشت نہ کھائیں۔ سبزیاں زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔ سبزی میں کریلا بکثرت استعمال ہونا چاہئے۔

یہ غلط ہے کہ وہم کا علاج نہیں

ارم بلوچ۔ کراچی: دسویں جماعت کی طالبہ ہوں۔ الجھن یہ ہے کہ میں ہر نماز کے پہلے میں تین تین مرتبہ وضو کرتی ہوں۔ مجھے وہم رہتا ہے کہ وضو ٹھیک نہیں ہوا اور میں پاک نہیں ہوں۔ دوسرے کاموں میں بھی یہی ہوتا ہے۔ بس پانی بہاتی رہتی ہوں۔ منٹوں کے کاموں میں گھنٹوں لگ جاتے ہیں۔ دو سال سے اس مرض میں مبتلا ہوں۔ اس وہم کی وجہ سے زندگی عذاب بن گئی ہے۔
جواب: کسی اچھے فوٹو گرافر سے پوسٹ کارڈ سائز کا نیگیٹو بنوائیے۔ فوٹو گرافر سے کہ دیجئےکہ اس پر برش نہ لگائے اور نہ ٹھیک کرے۔ جیسی حالت میں ہو دیدے۔ اس نیگیٹو کو فریم کراکے کمرہ میں ایسی جگہ لٹکا دیجئے جہاں بار بار آپ کی نظر پڑتی رہے۔ وقت ملنے پر وقفہ وقفہ سے اس کو آپ ارادتاً بھی دیکھئے۔ رات کو سوتے وقت بستر پر لیٹ کر بار بار دیکھئے۔ وہم کا مرض رفع ہوجائے گا۔

میں خود سے باتیں کرتا ہوں

عبد الحمید انصاری۔ حیدرآباد: میں بچپن سے دل ہی دل میں باتیں کرنے کا عادی ہوں۔ چلتے پھرتے خود سے سوال کرتا ہوں اور خود ہی جواب دے دیتا ہوں۔ بیشمار ترین کوششوں کے بعد بھی اس عادت کو ترک نہیں کرسکا ہوں۔ اس کیفیت کے مسلط رہنے کی وجہ سے حافظہ جواب دے گیا ہے۔ ایک دوسری مصیبت یہ ہے کہ خود ہی خود تو خوب باتیں کرتا ہوں لیکن کسی دوسرے آدمی سے بات نہیں کرسکتا۔ آواز حلق میں رہ جاتی ہے۔ کئی مرتبہ ملازمت ملتے ملتے رہ گئی کیونکہ میں انٹرویو کے وقت جواب ہی نہیں دے سکا۔ آپ میری اس پریشانی کا اندازہ خود لگاسکتے ہیں۔
جواب: اس شکایت کا تعلق براہ راست دماغ سے ہے۔ اور اس کا علاج یہ ہے کہ آپ چھوہارے کھائیں۔ ترکیب یہ ہے دو چھوہارے پانی میں دھوکر ایک پاؤ دودھ میں پکائیں۔ ایک یا دو جوش کے بعد پتیلی اتار کر رکھ دیں۔ صبح پھر ایک بار جوش دیں۔ ٹھنڈا کرکے چھوہارے کھالیں اور دودھ پی لیں۔ چند ہفتے میں انشاءاللہ خود سے بات کرنے کی عادت اور دوسری شکایت ختم ہوجائے گی۔