09 March 1971

مستقبل میں بہت سی الجھنیں پیش آنے کا خطرہ ہوگیا ہے

ب۔ا۔س کراچی: میں بعض ناگزیر خیالات کی بنا پر زیر بار ہوں جس سے طبیعت پریشان اور متفکر رہتی ہے ۔ براہ کرم ادائیگی قرض کیلئے کوئی زود اثر وظیفہ تحریر فرمادیں۔ کچھ عرصے سے پریشان کن خواب دیکھ رہا ہوں ۔ دو تین ماہ ہوئے دیکھا کہ ہوائی اڈے یا ریلوے اسٹیشن سے بغل میں قران مجید دبائے چلا آرہا ہوں ۔ باہر بارش ہورہی ہے بر آمدے کے اندر بارش کی پھو ہار آرہی ہے۔ دیکھا کہ مکان تبدیل کر رہا ہوں اور سامان باہر سر راہ پڑا ہوا ہے ۔ پھر دیکھا کہ بچے موجودہ صحن میں سو رہے ہیں ۔ ہلکی سی بارش یا بوندا باندی ہورہی ہے ۔ مگر وہ بارش میں پڑے رہتے ہیں ۔ میں بیوی سے کہتا ہوں کہ بچوں کی چارپائیاں اور بستر کمروں کے اندر کردو۔ پرسوں رات دیکھا کہ محکمہ کے افسر اعلیٰ میرے کمرے میں آتے ہیں مگر مرے کمرے میں اندھیرا ہے شاید باہر بادل چھائے ہوئے ہیں ۔ میں اپنی میز پر رکھے ہوئے لیمپ کا سوئچ دبا کر اسے روشن کرنا چاہتا ہوں مگرلیمپ روشن نہیں ہوتا۔ پرسوں رات دیکھا کہ ایک کمرے میں بستروں کا ڈھیر لگا ہوا ہے ایک چارپائی پر والدہ لیٹی ہوئی ہیں غالباََ علیل ہیں ۔ میں کمرے کا دروازہ کھول کر باہر آجاتا ہوں ۔ دوسرے کمرے کا دروازہ کھولتا ہوں تو وہاں تاریکی ہے ۔ فرش پر ریت کی دبیز تہہ بھی جمی ہوئی ہے ۔ بعض زہریلے اور خطرناک جانوروں کی موجودگی کا احساس بھی ہوتا ہے میں ریت میں دھنسنے لگتا ہوں اور واپس لوٹنا چاہتا ہوں ۔ آخر تھوڑی سی جدوجہد کے بعد وہاں سے نکل آتا ہوں یا نکالا جاتا ہوں۔ جواب: یہ سارے خواب ان باتوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔(۱) یہ کہ فی الوقت جو طرز فکر استعمال کی جارہی ہے وہ انتہا پسندانہ ہے (۲) حقوق کا اتلاف ہورہا ہے۔ نامناسب روش فکر سے ذہن کے اوپر مستقل بار ہے اور یہ بار اب تاریکی میں تبدیل ہورہا ہے۔ قرض میں زیر بار ہونا بھی اس سلسلے کی کڑی ہے ۔ گھریلو معاملات میں اعتدال پسند رویہ اختیار کیجئے ۔ انشاء اللہ حالات سازگار ہوجائیں گے ۔ خواب میں دیکھے ہوئے نقوش ایسی فلم پیش کررہے ہیں جس پر بتایا جارہا ہے کہ اگر موجودہ طرز عمل برقرار رہا تو مستقبل میں بہت سے الجھنیں پیش آسکتی ہیں ۔

دل، دماغ اور روح میں کیا فرق ہے

وقار یوسف ناظم آباد ۔ کراچی: جسم انسانی گوشت پوست کا پنجرہ ہے ۔ اس پنجرے کے اجزائے ترکیبی میں جو چیزیں ہڈیوں اور گوشت کے پنجرہ کو متحرک رکھنے کی ضامن ہیں ان میں روح، دماغ اور دل قابل ذکر ہیں ۔ دل کی حرکت بند ہوجائے تو انسانی زندگی کو تحریک دینے والے سارے عوامل ساکت ہوجاتے ہیں ۔ دماغ کام کرنا چھوڑدے تو دماغ میں کام کرنے والے اربوں کھربوں خلئے اس طرح بے موت مر جاتے ہیں کہ زندگی ایک لاش بن کر رہ جاتی ہے ۔ روح جس پر دماغ اور دل کا سارا دارومدار ہے منہ موڑے تو انسانی جسم کی ساری مشینری درہم برہم ہوجاتی ہے۔ استدعا ہے کہ یہ بتایا جائے کہ دل و دماغ اور روح میں کیا فرق ہے۔

جواب: قران پا ک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ، ارشاد ہے کہ لوگ مجھ سے فواد کرتے ہیں۔ اس کا ترجمہ ایرانی اور اردو ادب میں دل کہا جاتا ہے ۔ قران پاک میں فواد سے مراد فکر کرنے سوچنا اور سمجھنا لیا جاتا ہے اس کیلئے ایرانی ادب والے دل کا لفظ استعمال کرتے ہیں ۔
قران پاک میں جس کو سوچنا اور سمجھنا فرمایا گیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے وصف کا عمل ہے اور اللہ تعالیٰ کا وہ وصف اور وہ عطیہ " روح" ہے۔ یہ کام روح انجام دیتی ہے ۔ روح جسم سے رشتہ منقطع کرے تو دل اور دماغ دونوں کی تحریکات ختم ہوجاتی ہیں ۔ روح کو دماغ کہ سکتے ہیں نہ دل۔ اگر دل گوشت کے ٹکڑے سے مراد ہے تو اس ٹکڑے کا زندگی کو متحرک رکھنے والے عمل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اہل زبان بطور استعارہ کے سوچنے کے عمل کو دماغ یا دل سے منسوب کرتے ہیں لیکن اس عمل کا تعلق محض روح سے ہے۔
روحانیت میں دماغ اور دل کا کوئی مقام نہیں ہے اور نہ ان کی کوئی اپنی کارگزاری ہے۔ کارگزاری صرف روح کی ہے ۔ روح جب تک ان سے کام لینا چاہتی ہے تو یہ روح کیلئے کام کرنے پر مجبور ہیں۔

قوت ارادی

عبدالواحد لیاقت آباد : عبدالماجد نام اچھا ہے۔ نام بدلنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ نام بدلنے سے آپ کے اندر قوت ارادی بحال ہوجائے گی لیکن میرا خیال یہ ہے کہ نام کی تبدیلی سے کچھ نہیں ہوگا۔ آپ اپنی انا کو ٹٹولئے۔ انا کے اندر ڈوب کر اس بات کا کھوج لگائے کہ قوت ارادی کہاں دبی ہوئی ہے ۔ آپ کا علاج خارجی نہیں اندرونی ہونا چاہیئے ۔ رات کو سونے سے پہلے سیدھے لیٹ کر اپنا تصور کیجئے۔ تصور کا وقفہ پندرہ منٹ ہے۔ اس عمل کو چالیس روز برقرار رکھئے انشاء اللہ آپ کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔

پوشیدہ امراض سے نجات

اقتدار احمد: پوشیدہ بیماری سے نجات حاصل کرنے کیلئی ہر وقت با وضو رہیں اور سوتے وقت روئی کا گدا استعمال نہ کیا جائے ۔ دری یا چٹائی پر سویا کریں ۔ گرم چیزوں سے پرہیز کرنا ضروری ہے ۔ کچی سبزیاں اور پالک کثرت سے کھایا کریں۔ چند ہفتوں میں مرض سے مکمل نجات مل جائے گی ۔ اسی طریقہ علاج سے آپ کی ذہنی صلاحیتیں بیدار ہوجائیں گی اور انشاء اللہ آپ امتحان میں پاس ہوجائیں گے۔

ٹھیک وقت پراٹھنے کیلئے روح کے الارم سے کام لیجئے

م۔ظ۔ع۔ وظیفہ پڑھنے کیلئے ٹھیک وقت پراٹھنے کیلئے روح کے الارم سے کام لیجئے ۔ طریقہ یہ ہے کہ جب آپ سونے کیلئے لیٹ جائیں تو اپنا پورا نام لے کر خود کو مخاطب کریں اور کہیں مجھے اتنے بج کر اتنے منٹ پر جگا دینا ۔ انشاء اللہ ٹھیک وقت پر نیند سے بیدار ہوجائیں گے ۔

شادی اور امتحان میں پاس ہونے کا مسئلہ

ا۔ن۔آپ اور آپ کی بہن بعد نماز عشاء 41 مرتبہ
 لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظلمین
 پڑھ کر ہاتھوں پر دم کریں اور دونو ں ہاتھ اپنے اپنے چہرے پر پھیر لیں ۔ اس عمل کی برکت سے آپ کی شادی اور امتحان میں پاس ہونے کا مسئلہ دونوں حل ہوجائیں گے ۔ وظیفہ مقصد پورا ہونے تک پڑھتے رہیں ۔ ناغہ کے دنوں میں نہ پڑھیں لیکن غیر ضروری طور پر ناغہ نہ کیا جائے۔

پوشیدہ امراض سے نجات

اقتدار احمد: پوشیدہ بیماری سے نجات حاصل کرنے کیلئے ہر وقت با وضو رہیں اور سوتے وقت روئی کا گدا استعمال نہ کیا جائے ۔ دری یا چٹائی پر سویا کریں ۔ گرم چیزوں سے پرہیز کرنا ضروری ہے ۔ کچی سبزیاں اور پالک کثرت سے کھایا کریں۔ چند ہفتوں میں مرض سے مکمل نجات مل جائے گی ۔ اسی طریقہ علاج سے آپ کی ذہنی صلاحیتیں بیدار ہوجائیں گی اور انشاء اللہ آپ امتحان میں پاس ہوجائیں گے۔

چوری کی عادت

جان محمد ۔ آپ نے حالات سے مجبور ہو کر گھر میں چوری کی۔ گھر والوں نے آپ کو معاف کردیا۔ اب یہ سوچنا کہ کام ہوہی گیا ہے تو کیوں نہ اس عمل کو جاری رکھا جائے صحیح طرز فکر نہیں ہے۔ غلطی انسان سے ہوتی ہے یہاں کوئی فرشتہ نہیں ہے ۔ فرشتوں کو انسان پر اسلئے فضیلت حاصل ہے کہ وہ گناہ کرسکتا ہے ، اور جب چاہتا ہے ساری صلاحیتوں سے اجتناب کر کے مومن بن جاتا ہے ۔ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے "مومن کی فراست سے ڈرو وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے" ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مومن پیدا کیا ہے اب یہ آپ کا اختیار ہے کہ آپ کیا بننا پسند کرتے ہیں ۔ بزرگوں کا ارشاد یاد رکھئے ۔ عذر گناہ بد ترین گناہ ۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ لا حاصل باتوں سے ذہن ہٹا کر تعلیم کی طرف توجہ دیں۔ اپنے اندر خوبیاں پیدا کریں۔ اس طرح آپ خود بھی بھول جائیں گے کہ آپ نے چوری کی تھی۔

بد اخلاقی

ر۔ع۔ خط میں جن الجھنوں کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔ وہ صحت اور انسانی صلاحیتوں کو دیمک بن کر چاٹ جاتی ہے ۔ دل، دماغ، نظر اور اعضائے جسم سب بیکار ہوجاتے ہیں۔ آدمی زندہ ضرور رہتا ہے مگر وہ چلتی پھرتی ایک لاش کی مانند ہوتا ہے ۔ زندگی میں نہ کوئی ولولہ ہوتا ہے اور نہ کوئی مقصد حیات ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی صفات دے کر پیدا کیا ہے ۔ بندہ اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی صفات اور عنایت کردہ اختیارات سے اپنے معاملات و مسائل میں تخریب یا تعمیر کرسکتا ہے ۔ انسان کے اندر کام کرنے والی تعمیری صلاحیتوں کو قوت ارادی سے بحال کیا جاسکتا ہے ۔ قوت ارادی بحال کرنے کیلئے ہر وقت با وضو رہنا اور یا حی یا قیوم کا ورد اکسیر کا حکم رکھتا ہے آپ بھی یہی طریقہ اختیار کیجئے ۔ کسی لڑکی کے بارے میں دوستوں کے بے ہودہ خیالات کو کوئی اہمیت نہ دی جائے۔ اپنی ساری توجہ تعلیم پر صرف کریں ۔ اگر آپ اس بد اخلاقی سے باز نہ آئے تو یاد رکھئے آپ کا مستقبل تاریک ہوجائے گا۔

شاندار نمبروں سے کامیابی

شاہ ریاض احمد: گیارہویں اور بارہویں جماعتوں کے امتحان میں اچھی پوزیشن سے کامیاب ہونے کیلئے محنت کے ساتھ ساتھ سونے سے پہلے ایک سو مرتبہ یَا اُو لِیْ الْالْبَابْ پڑھئیے ۔ مصلیٰ پر ہی آنکھیں بند کر کے یہ تصور قائم کیجئے کہ میں اللہ تعالیٰ کے سامنے بیٹھا ہوں یا یہ کہ االلہ تعالیٰ مجھے دیکھ رہے ہیں۔ تصور میں اللہ تعالیٰ سے شاندار نمبروں سے کامیابی کیلئے دعا کیجئے دعا کم سے کم دس منٹ کیجئے ۔ اس عمل کو امتحان کا نتیجہ شائع ہونے تک جاری رکھیں اللہ تعالیٰ رحیم و کریم ہیں آپ کی درخواست کو ضرور شرف قبولیت بخشیں گے۔ انشاء اللہ ۔

زبان کی لکنت اور رعشہ

نسیم وقار: ٹھنڈا پانی پینا ترک کردیجئے ۔ ازہ نیم گرم پانی پیا کیجئے ۔ ہفتہ میں ایک یا دو دفعہ خرگوش کا بھیجا بھون کر کھائیے تین ہفتہ اس علاج پر عمل کرلیں۔ انشاء اللہ آپ کی زبان کی لکنت اور ہاتھ پاؤں کا رعشہ ختم ہوجائے گا۔ اسی علاج سے آپ کی یاداشت اور احساس کمتری کی شکایت بھی رفع ہوجائے گی۔

شادی کے مسائل

ا۔ن۔آپ اور آپ کی بہن بعد نماز عشاء 
لآ اِلٰہ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِّنَ الظَّالِمِیْنَ
 پڑھ کر ہاتھوں پر دم کریں اور دونو ں ہاتھ اپنے اپنے چہرے پر پھیر لیں ۔ اس عمل کی برکت سے آپ کی شادی اور امتحان میں پاس ہونے کا مسئلہ دونوں حل ہوجائیں گے ۔ وظیفہ مقصد پورا ہونے تک پڑھتے رہیں ۔ ناغہ کے دنوں میں نہ پڑھیں لیکن غیر ضروری طور پر ناغہ نہ کیا جائے۔

نظر کی کمزوری دور کرنے کیلئے عجیب و غریب سرمہ

محمد عثمان۔سکھر: میرا دماغ بہت کمزور ہوگیا ہے ۔ کمر کی ہڈی میں درد رہتا ہے۔ چکر آتے ہیں ۔ نماز پڑھتا ہوں تو چار رکعت کی بجائے دو اور دو رکعت کی بجائے چار پڑھ لیتا ہوں ۔ التحیات اور درود شریف پرھتے پرھتے بھول جاتا ہوں ۔ کالج کی کتاب دیکھنے کو جی نہیں چاہتا ۔ پہلے یہ حال تھا کہ ہر کلاس اول پوزیشن میں پاس ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ میں نے سارے اسکول میں ٹاپ کیا اور مجھے وظیفہ بھی ملا تھا۔ خود اعتمادی بالکل نہیں ہے ۔ نظر کمزور ہوگئی ہے اور میرے ۳ نمبر کا چشمہ لگ گیا ہے۔

جواب: آپ کے مثانہ میں کمزوری ہے ۔ اور یہ کمزوری خون میں حدت پیدا ہوجانے سے واقع ہوئی ہے ۔ دواؤں کے بجائے غذاؤں سے علاج کیا جاتا تو یہ مرض اتنا نہ بڑھتا کہ اس کی وجہ سے دماغ اور نظر بھی کمزور ہوجائے۔ آپ صبح نہار منہ دو تین موسمبی یا میٹھے سنگترے کھا لیا کیجئے ۔ چائے بالکل چھوڑ دیجئے ۔ کچی سبزیاں مثلاً شلجم ، گاجر اورپالک کھانا آپ کیلئے بہت مفید ہے ۔ گوشت میں سبزیاں استعمال کیجئے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک سرمہ بنا کر آنکھوں میں پابندی سے لگائیے۔
پیلی سرسوں کا تیل کچی گھانی کا حاصل کیجئے۔ مٹی کے چراغ میں تیل اور بتی ڈال کر روشن کیجئے ۔ اور اس کے اوپر ایک کورا مٹی کا چراغ اس طرح رکھ دیجئے کہ ہوا پر نہ ہو۔ اب اس چراغ میں کاجل جمع ہوجائے گی۔ یہ کاجل کسی ڈبیا میں بھر کر رکھ دیجئے ۔ رات کو سوتے وقت دونوں آنکھوں میں تین تین سلائیاں لگائیے ۔ سلائی جست کی ہونی چاہئیے۔ چھ ماہ اس سرمہ کو آنکھوں میں لگانے سے انشاء اللہ آپ کو چشمہ لگانے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی ۔ اس سرمہ سے آپ کی دماغی کمزوری اور چکر آنے کا سلسلہ بھی ختم ہوجائے گا۔ جب خربوزہ کا موسم آئے تو روز خربوزہ کھائیے۔ جتنا بھی کھاسکیں۔

رشتہ داروں نے جادو کرادیا ہے، بہن بھائیوں کی شادی نہیں ہوتی

محمد سلیمان کراچی: میری چھوٹی بہن کی کافی عمر ہوگئی ہے ۔ لیکن اس کی شادی میں کوئی نہ کوئی رکاوٹ پڑ جاتی ہے ۔ چھوٹے بھائی ہیں سب ماشاء اللہ برسر روزگار ہیں ۔ ان کی بھی شادی نہیں ہورہی ہے۔ میں بہت پریشان ہوں ۔ اللہ کے فضل و کرم سے اچھی آمدنی ہے ۔ مگر ہم لوگ مقروض رہتے ہیں ۔ اندازہ یہ ہے کہ عزیز رشتہ داروں نے ہمارے اوپر کچھ کرادیا ہے جس کی وجہ سے نہ تو ہماری گھر میں شادی ہوتی ہے نہ تو قرض اترتا ہے ۔ میری اپنی حالت یہ ہے کہ میں ہر وقت خوفزدہ رہتا ہوں۔ تنہا اگر کہیں جاتا ہوں تو گھبراہٹ شروع ہوجاتی ہے اور چکر آنے لگتے ہیں ۔ وظیفہ بتادیجئے کہ اس کی برکت سے اللہ تعالی چھ بہن بھائیوں کی شادی کے فرائض سے سبکدوش کردے۔ اور قرض کی مصیبت سے نجات مل جائے اور مجھے صحت حاصل ہوجائے

جواب: آپ کا یہ اندازہ غلط ہے کہ آپ کے اوپر کسی نے جادو ٹونا کرادیا ہے۔ یہ سب حالات آپ کے خود پیدا کردہ ہیں ۔ طرز زندگی میں اعتدال نہیں ہے ۔ اعتدال نہ ہونے کی وجہ سے زندگی کی اقدار بڑی حد تک متاثر ہوچکی ہے ۔ آپ اپنے گھریلو حالات اور غیر اعتدال پسند طبعیتوں کا محاسبہ کیجئے اور غور کیجئے کہ آپ کی اور گھر کے دوسرے افراد کی روش فکر میں کس طرح تبدیلی آسکتی ہے ۔ انشاء اللہ آپ کے تمام مسئلوں کا حل نکل آئے گا آپ کے لئے کسی وظیفہ یا تعویذ کی ضرورت نہیں ہے

آپ ایک بکرے کا صدقہ ضرور دیں ورنہ مشکلات بڑھ جائیں گی۔!

حاجی غلام شفیع ۔اوڑ۔بلوچستان: میں نے ایک نیا گھر تعمیر کرایا ہے جو رقم پاس تھی وہ سب خرچ ہوگئی ہے ۔ جب ہم لوگ کرائے کا مکان چھوڑ کر اپنے نو تعمیر مکان میں آ ئے تو دوست احباب اور پڑوسیوں نے اس بات پر مجبور کیا کہ ایک بکرا اللہ کے نام کا ذبح کرنا چاہئیے۔ ان سب لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ نئے مکان میں رہائش اختیار کرنے سے پہلے قربانی ضروری ہے پہلے تو میں نے عذر کیا کہ میرے پاس خیرات کیلئے پیسے نہیں ہیں اور پھر لوگوں کے اصرار سے میرے اندر ضد پیدا ہوگئی۔ نہ تو حدیث میں ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کاا رشاد ہے کہ نئے مکان میں جانے سے پہلے بکرا قربان کیا جائے ۔ نئے مکان میں ایک ہفتہ قیام کرنے کے بعد میں پورا ایک ماہ بیمار رہا۔میں ابھی پوری طرح صحت یاب نہیں ہوا تھا کہ میرا چھوٹا بچہ بیمار ہوا اور چند دن بیمار رہ کر فوت ہوگیا ۔ اس سانحہ کے بعد میرے عزیز رشتہ دار کہتے ہیں کہ یہ مکان منحوس ہے اس کو چھوڑ کر پھر کرائے کے مکان میں واپس چلے جائیں ۔ پانچ ہزار روپے لگا کر مکان بنوایا ہے ۔ مکان کے سامنے مسجد ہے پانچ وقت کی اذان سنتے ہیں ۔ مسجد قریب ہونے کی وجہ سے نماز با جماعت ادا کر لیتا ہوں ۔ آپ اپنی رائے سے مطلع کریں کہ ہمیں کیا کرنا چاہئیے ۔

جواب: حاجی صاحب آپ نے مکان پر پانچ ہزار روپے خرچ کردئیے لیکن جس اللہ نے آپ کو یہ پانچ ہزار روپے اور آپ کا ذاتی مکان دیا اس کیلئے آپ چالیس پچاس روپے کا بکرا خیرات کرنے میں اسقدر سنجیدہ ہوگئے ہیں کہ آپ کے اندر ضد پیدا ہوگئی ہے ۔ قران پاک میں اگر یہ بات نہیں ہے کہ نئے مکان میں جانے سے پہلے بکرا خیرات کیا جائے ۔ یہ ارشاد تو ہے کہ اللہ کے لئے اللہ کے رسول کیلئے قریبی رشتہ داروں یتیموں اور مسکینوں اور اللہ کے راستے میں اپنا مال خرچ کروآپ کا کہنا درست ہے کہ موت کا ایک وقت مقرر ہے ۔ اور آدمی بیمار ضرور ہوتا ہے ۔ اس مکان کی نحوست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مگر یہ دلیل اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کے واضح امکانات پر کسی طرح اثر انداز نہیں ہوتی۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ ایک بکرے کا صدقہ ضرور دیں ۔ اگر آپ نے اس پر عمل نہیں کیا تو ذہن پر جو گرہ پڑ چکی ہے وہ اسقدر الجھ جائے گی کہ پھر اس کا سلجھنا مشکل مسئلہ بن جائے گا۔

قوت ارادی کو ٹٹولئے

عبدالواحد لیاقت آباد ۔ عبدالماجد نام اچھا ہے۔ نام بدلنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ نام بدلنے سے آپ کے اندر قوت ارادی بحال ہوجائے گی لیکن میرا خیال یہ ہے کہ نام کی تبدیلی سے کچھ نہیں ہوگا۔ آپ اپنی انا کو ٹٹولئے۔ انا کے اندر ڈوب کر اس بات کا کھوج لگائے کہ قوت ارادی کہاں دبی ہوئی ہے ۔ آپ کا علاج خارجی نہیں اندرونی ہونا چاہیئے ۔ رات کو سونے سے پہلے سیدھے لیٹ کر اپنا تصور کیجئے۔ تصور کا وقفہ پندرہ منٹ ہے۔ اس عمل کو چالیس روز برقرار رکھئے انشاءاللہ آپ کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔