09 مارچ 1971

آپ ایک بکرے کا صدقہ ضرور دیں ورنہ مشکلات بڑھ جائیں گی۔!

حاجی غلام شفیع ۔اوڑ۔بلوچستان: میں نے ایک نیا گھر تعمیر کرایا ہے جو رقم پاس تھی وہ سب خرچ ہوگئی ہے ۔ جب ہم لوگ کرائے کا مکان چھوڑ کر اپنے نو تعمیر مکان میں آ ئے تو دوست احباب اور پڑوسیوں نے اس بات پر مجبور کیا کہ ایک بکرا اللہ کے نام کا ذبح کرنا چاہئیے۔ ان سب لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ نئے مکان میں رہائش اختیار کرنے سے پہلے قربانی ضروری ہے پہلے تو میں نے عذر کیا کہ میرے پاس خیرات کیلئے پیسے نہیں ہیں اور پھر لوگوں کے اصرار سے میرے اندر ضد پیدا ہوگئی۔ نہ تو حدیث میں ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کاا رشاد ہے کہ نئے مکان میں جانے سے پہلے بکرا قربان کیا جائے ۔ نئے مکان میں ایک ہفتہ قیام کرنے کے بعد میں پورا ایک ماہ بیمار رہا۔میں ابھی پوری طرح صحت یاب نہیں ہوا تھا کہ میرا چھوٹا بچہ بیمار ہوا اور چند دن بیمار رہ کر فوت ہوگیا ۔ اس سانحہ کے بعد میرے عزیز رشتہ دار کہتے ہیں کہ یہ مکان منحوس ہے اس کو چھوڑ کر پھر کرائے کے مکان میں واپس چلے جائیں ۔ پانچ ہزار روپے لگا کر مکان بنوایا ہے ۔ مکان کے سامنے مسجد ہے پانچ وقت کی اذان سنتے ہیں ۔ مسجد قریب ہونے کی وجہ سے نماز با جماعت ادا کر لیتا ہوں ۔ آپ اپنی رائے سے مطلع کریں کہ ہمیں کیا کرنا چاہئیے ۔

جواب: حاجی صاحب آپ نے مکان پر پانچ ہزار روپے خرچ کردئیے لیکن جس اللہ نے آپ کو یہ پانچ ہزار روپے اور آپ کا ذاتی مکان دیا اس کیلئے آپ چالیس پچاس روپے کا بکرا خیرات کرنے میں اسقدر سنجیدہ ہوگئے ہیں کہ آپ کے اندر ضد پیدا ہوگئی ہے ۔ قران پاک میں اگر یہ بات نہیں ہے کہ نئے مکان میں جانے سے پہلے بکرا خیرات کیا جائے ۔ یہ ارشاد تو ہے کہ اللہ کے لئے اللہ کے رسول کیلئے قریبی رشتہ داروں یتیموں اور مسکینوں اور اللہ کے راستے میں اپنا مال خرچ کروآپ کا کہنا درست ہے کہ موت کا ایک وقت مقرر ہے ۔ اور آدمی بیمار ضرور ہوتا ہے ۔ اس مکان کی نحوست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مگر یہ دلیل اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کے واضح امکانات پر کسی طرح اثر انداز نہیں ہوتی۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ ایک بکرے کا صدقہ ضرور دیں ۔ اگر آپ نے اس پر عمل نہیں کیا تو ذہن پر جو گرہ پڑ چکی ہے وہ اسقدر الجھ جائے گی کہ پھر اس کا سلجھنا مشکل مسئلہ بن جائے گا۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں