01 جون 1971

مفروضہ خیالات اور کاہلی پر میرا اعتماد نہیں

غ۔ف ۔ کراچی: جیسے جیسے امتحان قریب آرہے ہیں سر میں درد ہوتا جارہا ہے۔ امتحان کا تصور آتے ہی سر میں شدید درد شروع ہوجاتا ہے، پڑھنے بیٹھتا ہوں تو دماغ سن ہوجاتا ہے، بہت زیادہ جبر کر کے کورس کی کتابیں پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں تو نیند کے بوجھ سے آنکھیں بند ہونے لگتی ہیں۔ سمجھ نہیں آتا کیا کروں۔؟

جواب: آپ نے سارا سال تو کھیل کود اور پڑھائی کی طرف عدم توجہی میں گزار دیا، اب جب امتحان سر پر آگئے تو آپ کو کتابیں پڑھنے کا خیال آرہا ہے۔ یہ طرز فکر انتہائی غلط اور نا مناسب ہے۔ آپ خود ہی سوچئے ، سال بھر کا کام ایک ماہ میں کیسے انجام دیا جاسکتا ہے۔ پڑھئیے اور برابر محنت کیجئے شاید آپ پاس ہوجائیں۔ میرے پاس کوئی ایسی کیمیا نہیں ہے کہ آپ محنت کے بغیر اور پڑھنے لکھنے میں کوتاہی کے باوجود پاس ہوجائیں۔ میں محنت اور اللہ کی دستگیری کا قائل ہوں، مفروضہ خیالات اور کاہلی پر میرا کوئی اعتماد نہیں ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں