01 جون 1971

ایسی غلطی ہوگئی جو معاف نہیں کی جاسکتی

گمنام۔ مجھ سے ایک ایسی غلطی سر زد ہوگئی ہے جس کے بارے میں میرا خیال ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں معاف نہیں کی جاسکتی ۔ اس غلطی کے رد عمل نے میرا ذہنی سکون معطل کر دیاہے۔ امتحان میں پرچے خراب کر آئی ہوں جبکہ میں اپنے ساتھیوں میں ذہین ترین طلبہ ہوں۔ اسکول کی ایک لڑکی نے میرے ساتھ دشمنی کی! مس کہتی ہیں کہ تمہیں تین سال کیلئے اسکول سے نکال دیا جائے گا۔ میں نے رو رو کر برا حال کر لیا ہے ۔ میں ایک یتیم اور بے سہارا لڑکی ہوں ۔ اگر مجھے اسکول سے نکال دیا گیا تو میری زندگی میں اندھیرے جنم لے لیں گے ۔ خدا کیلئے میری مدد کیجئے۔
جواب: آپ بالکل مطمئن رہیں آپ کو اسکول سے نہیں نکالا جائے گا ۔ یہ میرا فیصلہ ہے۔ البتہ آپ اپنی مس سے غلطی کا اعتراف کر کے معا فی ضرور مانگ لیں، وہ آپ کو معاف کر دیں گی۔ اچھے لوگ کبھی کسی کا مستقبل بر باد نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی بڑی سے بڑی غلطی معاف کرنے کی قدرت رکھتے ہیں اور اپنے وصف سے خوش ہوتے ہیں۔ بندے کا کام اعتراف جرم کے بعد اللہ تعالیٰ کے حضور معافی مانگنا ہے اللہ تعالیٰ قبول فرما لیتے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں