01 دسمبر 1971

19 سال کی عمر میں آدھا سر سفید ہو گیا

0 comments
شازیہ حلیم کورنگی، شہناز کراچی، عبدالرحمن بلوچ کراچی، صابری ٹھٹھہ، محمد خالد کراچی، سکندر خاں کوہاٹ، ش ۔ب۔حسن لانڈھی۔
میرے بال پہلے لمبے تھے، لیکن اب بہت کم ہوگئے ہیں۔ ہر طرف سے مایوس ہو کر آپ کی خدمت میں حاضر ہو رہی ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کے نزدیک یہ اتنا بڑا مسئلہ نہ ہو مگر میرے لئے یہ دن رات کے روحانی کرب کا موجب بن گیا ہے۔ اللہ تعالی نے مجھے خوبصورتی کی دولت سے نوازا اور اس کے ساتھ ہی خوبصورت اور گھنے بال عطا فرماۓ۔ اتنے گھنے بال کہ جو دو چوٹیوں میں بھی نہیں سماتے تھے اب ایک چٹیا بھی نہیں بنتی۔
میرے بال ریشم کی طرح ملائم ہیں معلوم ہوتا ہے کہ سر پر بال نہیں ریشم ہے کنگھی کرتا ہوں تو بال اس طرح ہو جاتے ہیں کہ جیسے سر پر بال ہی نہیں ہیں۔
انیس سال کی عمر میں سر کے بال پچاس فیصد سفید ہوگئے ہیں۔ کئی اشتہاری تیل استعمال کر چکا ہوں لیکن سفید بالوں میں ذرہ برابر کمی نہیں ہوئی۔ لمبے اور گھنے بالوں کا جنون کی حد تک شوق ہے آج کل ایک نئی مصیبت سے دوچار ہوں کہ بال دو شاخہ ہو رہے ہیں کسی رسالہ میں پڑھا تھا کہ بال کے سرے کاٹ دینے سے "دوشاخہ"ختم ہو جاتا ہے۔ مگر مجھے تو ذرا سا بھی فائدہ نہیں ہوا۔
میرے سارے جسم میں بہت زیادہ گھنے اور سخت بال ہیں جن میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔
جواب: لمبے، گھنے ، مضبوط اور خوبصورت بالوں کے لئے خانہ ساز تیل تیار کرا لیجیۓ اور رات کو سوتے وقت سر میں مالش کیجۓ۔ خالص سرسوں یا تلوں کے ایک سیر تیل میں ایک چھٹانک گلو (چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے)کو اتنا پکائیے کہ وہ جل کر سرخ ہو جاۓ۔ تیل ٹھنڈا ہونے پر کپڑے سے چھان لیں اور شیشی میں بھر کر رکھ لیں۔ تیل کی مالش کے ساتھ ساتھ روزانہ رات کو سوتے وقت ایک پاو بکری کا دودھ پیئں۔ دھوپ کے وقت بکری کا دودھ سر میں جذب کر کے نیم گرم پانی سے سر دھو ڈالیں۔ روزانہ سر دھونا ضروری نہیں ہے۔ جب بھی سر دھوئیں۔ وہ گھنٹہ پہلے سر میں بکری کا دودھ اچھی طرح جذب کر لیا جاۓ۔
سفید بال کالے کرنے کے لئے، رائی، میتھی کے بیج، السی ہم وزن لے کر سفوف بنالیں۔ شام کا کھانا کھانے کے آدھا گھنٹہ بعد ایک ماشہ سفوف تازہ پانی کے ساتھ کھائیں۔ اس نسخہ کا پورا اثر چھ ماہ بعد ظاہر ہوتا ہے کئی حضرات استعمال کر رہے ہیں۔ نتائج اللہ کے فضل و کرم سے امید افزا ہیں عام صحت پر بہت اچھے اثرات مرتب ہوۓ ہیں بال بھی کالے ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

مشین کے ذریعہ دماغ کا معائنہ

0 comments
زلیخا سلیمان  کراچی۔میری بیٹی روبینہ ایک معذور بچی ہے ممکن ہے آپ کے علاج سے تندرست ہوجاۓ۔ میں اس کے مکمل حالات آپ کو لکھتی ہوں۔ آپ کو خدا رسول کا واسطہ آپ میری بچی کے لئے علاج تجویز کر دیں۔ ہم لوگ کراچی اور بمبئی کے تمام بڑے بڑے انگریزی، یونانی اور ہومیو پیتھک ڈاکٹروں کا علاج کراچکے ہیں لیکن حالت سدھرنے کی بجاۓ روز بروز خراب ہوتی جارہی ہے۔ اب صرف خدا کا آسرا رہ گیا ہے۔
بچی آپریشن کے ذریعہ سے پیدا ہوئی۔ چونکہ بے حد کمزور تھی اس لئے آکسیجن میں رکھا گیا۔ لیکن رفتہ رفتہ تندرست ہو گئی بچی کی پیدائش سے قبل میں ہائی بلڈ پریشر کی مریض تھی اور دو مرتبہ تشنجی  دورے بھی پڑے تھے۔ میں اب بھی اس مرض میں مبتلا ہوں۔
بچی کے چار ماہ میں دانت نکلنا شروع ہوۓ چھ ماہ کی عمر میں بیٹھنے لگی اور گیارہ ماہ کی عمر میں چلنے پھرنے لگی اور چند الفاظ بھی ادا کرنے لگی۔ ڈیڑھ سال کی ہوئی تو خسرہ نکلی۔ کچھ عرصہ بعد تیز بخار آیا اور اتر گیا لیکن زکام کی حالت باقی رہی۔ چار سال کی عمر میں ڈاکٹر نے آپریشن کر کے ٹانسلز  نکال دئیے۔ لیکن اس عرصہ میں یہ بات سامنے آئی کہ بچی پوری طرح بولنے سے معذور ہے اور چلنے میں اس کی ٹانگیں کانپتی ہیں اور روز بروز لاغرو کمزور ہوتی جا رہی ہے 1948ءمیں اس کو بمبئی لے گئی اور وہاں بچوں کے ماہر ڈاکٹروں سے رجوع کیا۔ اور اس کے علاوہ نامور ڈاکٹروں سے بھی علاج کروایا۔ لیکن بے سود ۔ ہر معالج کی تشخیص جدا تھی۔ کسی نے ذہنی طور پر پسماندہ بتایا تو کسی نے جسمانی کمزوری اور کسی نے رگوں کے نظام میں تعطل بتایا۔ ایک ذہنی ڈاکٹر نے باقاعدہ مشین کے ذریعہ دماغ کے نظام کا مکمل معائنہ کر کے بتایا کہ دماغ کی رگوں کا فعل ناقص ہے اور یہ مرض بڑھتے بڑھتے تمام دماغ کو متا ثر کر دیگا اور بچی پلنگ سے لگ جاۓ گی یہ بات حرف بحرف صحیح ثابت ہوئی۔ اور 1969ء میں یہ حالت ہو گئی کہ بچی صرف کولہوں کے بل گھسٹتی تھی۔ اور پھر لڑھک جاتی تھی اور حواس خمسہ تو گویا بالکل ہی ختم ہوگئے تھے۔ نہ بھوک کا اظہار کر سکتی تھی نہ پیاس کا، پیشاب ، پخانے کا بھی ہوش نہیں تھا۔ یہاں تک کہ شکلیں پہچاننا بھی بھول گئی نوبت یہاں تک پہنچی کہ بچی کو کرسی پر بٹھا کر باندھ دیتے تھے۔ لیکن گردن پھر بھی نہیں ٹھہرتی تھی اور کرسی سمیت لڑھک جاتی تھی ۔ رونا شروع کرتی تو دن رات روتی اور بلا مبالغہ ایک ہفتہ تک روتی ہی رہتی ۔ تعویذ اور گنڈے بھی کراۓ اور اس کی مجبوری کو دیکھ کر اس کی موت کی دعائیں بھی مانگیں۔ اس بچی کے منہ سے عرصہ تک بد بو دار رال بھی بہتی رہتی۔ کبھی کبھی دورہ پڑتا ہے جس میں اس کا جسم ہلنا شروع ہوجاتا ہے اور پھر وہ ایک طرف گر جاتی ہے ۔ اس طرح گر نے سے بے شمار چوٹیں بھی آئیں لیکن اس کو کسی قسم کا احساس نہیں ہوتا۔ یہ بچی ایک زندہ لاش ہے ۔ اس کے پیر سوکھ کر ڈنڈوں کی مانند ہوگئے ہیں لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ جسمانی ترقی میں کسی قسم کا خلل نہیں پڑا ۔
یعنی دودھ کے دانت ٹوٹ کر نئے آۓ ،بال اور ناخن بھی بڑھتے ہیں، قد بھی عمر کے مطابق ہے البتہ  منہ نہیں کھلتا اور پیر کے پنجے اندر کی طرف مڑ گئے ہیں اور ہاتھ کی ہڈیوں میں کجی آ گئی ہے۔ بطور غذا کے شوربہ میں روٹی چور کر زبردستی کھلاتی ہوں لیکن بچی کو حلق سے اتارنے میں بڑی دقت ہوتی ہے۔ اب یا تو اس کی بینائی کمزور ہو رہی ہے یا زائل ہو رہی ہے۔
جواب: آدھ پاؤ عمدہ قسم کی سیپ خرید کر گر م پانی سے خوب صاف کر لیں۔ ہاون دستہ میں موٹا موٹا کچل کر گاڑھے مضبوط اور صاف کپڑے میں باندھ کر پوٹلی بنا لیں۔ مٹی کی ہانڈی میں اتنا پانی لیں بچی ایک دن میں استعمال کرتی ہو پوٹلی کو اس میں ڈال کر پانی کو ایک جوش دیں۔ اس علاج پر تین ماہ عمل کریں اور پھر حالات سے مطلع کریں۔ ہانڈی کا پانی روزانہ بدلیں۔ ایک پوٹلی صرف پندرہ دن کام دے گی۔ اس کے بعد سیپ اور کپڑا بدلنا ضروری ہے۔

02 نومبر 1971

سبز چنبیلی کے پھول برص کا بے نظیر علاج ہیں

0 comments
محمود ۔کوئٹہ، ایک بہن۔کراچی: آٹھ برس سے برص جیسے موذی مرض میں مبتلا ہوں۔ علاج سے اتنا فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ داغ بڑھتے نہیں ہیں۔ لیکن بالکل ختم بھی نہیں ہوتے۔ علاج تو میں کراچی میں کرا رہا ہوں آپ برص سے نجات پانے کےلئے وظیفہ تجویذ کردیں۔
میں ایک مشرقی لڑکی ہوں آپ کو اپنا بڑا بھائی تصور کرکے خط لکھ رہی ہوں۔ امید ہے کہ آپ اپنی بہن کو مایوس نہیں کریں گے اور میرے مرض کےلئے علاج تجویذ کردیں گے۔
جواب: تین عدد سفید چینی کی پلیٹیں بازار سے نئی خریدیں اور ان کے اوپر زعفران کے پانی سے 
قُلْ ھُوَ الْمُعِیْنْ یَا مَعْرُوْفُ الْمَنَّانْ وَالْحَلِیْمْ
تین مرتبہ سورج نکلنے سے پہلے لکھ لیں اور صبح دوپہر شام ایک ایک پلیٹ پانی سے دھوکر چالیس دن تک پئیں۔ اور نہارمنہ سبز چنبیلی کے پھولوں کو چائے کی طرح دم دے کر روزانہ تین ہفتہ تک کوئی چیز ملائے بغیر پئیں۔ انشاءاللہ برص کے داغوں سے نجات مل جائے گی۔

01 نومبر 1971

چہرہ کی کشش اور پروقار شخصیت کا عمل

2 comments
کوثر۔ حیدر آباد: مجھے ایسا وظیفہ بتادیجئے جس سے میری شخصیت میں وقار، چہرہ میں دلکشی اور آنکھوں میں چمک پیدا ہوجائے۔ میں سورۂ یوسف کی آیت کا وظیفہ پڑھ سکتا ہوں۔ کوئی عمل بتا دیجئے۔
جواب: چہرہ میں کشش اور پروقار شخصیت کےلئےآپ سفید رنگ کی پلیٹ پر مندجہ ذیل نقوش بنائیں اور صبح نہار منہ پلیٹ دھوکر پی لیا کریں۔ یہ عمل نوے دن کرنے کا ہے۔ انشاءاللہ آپ کا مقصد حاصل ہوجائے گا۔ یہ نقوش زعفران کے پانی سے پلیٹ پر لکھے جائیں۔


ایم۔اے۔آر۔ ٹنڈو الہ یار: گردن، ٹھوڑی اور ہونٹ پر مونچھوں کے بال اگ آئے ہیں۔ ڈرتی ہوں کہ کہیں بڑے نہ ہوجائیں۔ چہرہ ہر وقت چکنا رہتا ہے۔ منہ دھونے کے چند منٹ بعد پھر چکنا ہوجاتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ چہرے پر تیل ملا ہوا ہے۔
جواب: آپ چکنائی اور مٹھاس زیادہ استعمال کرتی ہیں۔ اگر آپ ابھی موٹی نہیں ہوتی ہیں تو بہت جلد موٹاپا آپ کے وجود میں پھیل جائے گا اور جسمانی تناسب بدہئیت ہوجائے گا۔ میرا مشورہ ہے کہ چکنائی اور زیادہ مٹھاس کھانا ترک کردیجئے۔ نمک بھی بہت کم استعمال کیا جائے۔ کسی ہوشیار لیڈی ڈاکٹر سے رجوع کیجئے۔ تساہل اور شرم بعض اوقات مرض کو پیچیدہ بنا دیتی ہے۔

ن۔خ۔ کراچی: میں بہت زیادہ کالے رنگ کی لڑکی ہوں کوئی عمل بتادیجئے کہ میرا رنگ صاف ہوجائے۔
جواب: رات کو سوتے وقت اور صبح ناشتہ سے ایک گھنٹہ پہلےڈبہ کے دودھ میں خالص شہد ملاکر پی لیا کیجئے۔ ڈبہ کا دودھ پاؤڈر کا ہونا چاہئے۔ پاؤڈر گھول کر دودھ بناتا ہے۔

ن۔پ۔ر۔کراچی: آنکھوں میں حلقے پڑگئے ہیں۔ آنکھوں کے نیچے سیاہ رنگ کی جھائیاں ہیں۔ چہرہ کی چمک بالکل ختم ہوگئی ہے۔ ناک بہت موٹی اور آنکھیں بہت چھوٹی ہیں۔
جواب: سیاہ حلقے اور جھائیاں ـ نسوانی مرض کی علامت ہیں۔ براہ کرم کسی ہوشیار لیڈی ڈاکٹر سے پرہیز کے ساتھ مکمل علاج کرائیے۔

ر۔س۔ سنگاپور: آپ نے بھائی جان کے سرخ رنگ داغوں کے لئےروغن سورنجان تلخ تجویذ کیا تھا۔ آٹھ دن ہوگئے ہیں داغ ویسے کے ویسے ہی ہیں لیکن اتنا فرق ضرور ہوا ہے کہ داغ جو چہرے پر نمایاں تھا اب کم ہوگیا ہے۔ یعنی غور سے دیکھنے پرنظر آتا ہے پہلے کی طرح دور سے نظر نہیں آتا۔
جواب: آپ کے بھائی جان روغن سورنجان تلخ استعمال کرتے رہیں۔ انشاءاللہ داغ دھبّے سب ختم ہوجائیں گے۔

01 اکتوبر 1971

پھیلی ہوئی ناک چہرے پر بری لگتی ہے

0 comments
شمیم حسن: میری ناک بہت پھیلی ہوئی ہے جس کی وجہ سے بہت بد نما معلوم ہوتی ہے۔ رنگ  بھی سانولا ہے۔ میرے یہ دونوں مسائل حل کردیں کیونکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ شادی کے معاملہ میں یہ حائل ہوں۔
جواب: سورۂ یوسف کی آیت
 قَالَ يَا بُشْرَىٰ هَٰذَا غُلَامٌ ۚ وَأَسَرُّوهُ بِضَاعَةً ۚ 
ایک سو مرتبہ پڑھکر ہاتھوں پر دم کریں اور ہاتھ چہرہ پر پھیر لیں اور گفتگو کئے بغیر سوجائیں۔ نوے دن تک

کمر میں چک آگئی

0 comments
ایس۔اے۔ مانسہرہ:  ۱۵ سال سے میری کمر میں مستقل درد ہے۔ اس کی ابتداء اس دن سے ہوئی جب میں نے اپنی محترمہ دادی صاحبہ کو جو فالج کی مریضہ ہیں سہارا دے کر اٹھانے کی کوشش کی۔ ہر قسم کا علاج کروالیا لیکن بے سود۔ نیز میرے بال تیزی سے سفید ہوتے جارہے ہیں۔ اب گنتی کے چند بال سیاہ رہ گئے ہیں۔ آپ سے درخواست ہے کہ میری دونوں تکالیفوں کا کوئی حل تجویذ فرمائیں۔
جواب: دو حصے باجرہ اور ایک حصہ چاول کی کھچڑی پکائیے۔ ایک ہفتہ تک روزانہ ایک وقت صرف باجرہ کی کھچڑی کھائیے۔ کمر کہ اس درد سے نجات مل جائے گی۔ بالوں کو سیاہ کرنے کے لئے ہلیلہ سیاہ کوٹ چھان کر سفوف بنالیں۔ رات سوتے وقت کھانا کھانے کے تین گھنٹہ بعد ۶ ماشہ(ایک کھانے کا چمچ) یہ سفوف پانی کے ساتھ کھالیا کیجئے ۔ چھہ مہینے کے متواتر عمل سے انشاء اللہ بال کالے ہوجائیں گےاور آپکی عام صحت بھی عمدہ ہوجائے گی۔ چھہ مہینے کے عرصہ میں بڑا گوشت نہ کھائیں۔ سبزیاں زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔ سبزی میں کریلا بکثرت استعمال ہونا چاہئے۔

یہ غلط ہے کہ وہم کا علاج نہیں

0 comments
ارم بلوچ۔ کراچی: دسویں جماعت کی طالبہ ہوں۔ الجھن یہ ہے کہ میں ہر نماز کے پہلے میں تین تین مرتبہ وضو کرتی ہوں۔ مجھے وہم رہتا ہے کہ وضو ٹھیک نہیں ہوا اور میں پاک نہیں ہوں۔ دوسرے کاموں میں بھی یہی ہوتا ہے۔ بس پانی بہاتی رہتی ہوں۔ منٹوں کے کاموں میں گھنٹوں لگ جاتے ہیں۔ دو سال سے اس مرض میں مبتلا ہوں۔ اس وہم کی وجہ سے زندگی عذاب بن گئی ہے۔
جواب: کسی اچھے فوٹو گرافر سے پوسٹ کارڈ سائز کا نیگیٹو بنوائیے۔ فوٹو گرافر سے کہ دیجئےکہ اس پر برش نہ لگائے اور نہ ٹھیک کرے۔ جیسی حالت میں ہو دیدے۔ اس نیگیٹو کو فریم کراکے کمرہ میں ایسی جگہ لٹکا دیجئے جہاں بار بار آپ کی نظر پڑتی رہے۔ وقت ملنے پر وقفہ وقفہ سے اس کو آپ ارادتاً بھی دیکھئے۔ رات کو سوتے وقت بستر پر لیٹ کر بار بار دیکھئے۔ وہم کا مرض رفع ہوجائے گا۔

میں خود سے باتیں کرتا ہوں

0 comments
عبد الحمید انصاری۔ حیدرآباد: میں بچپن سے دل ہی دل میں باتیں کرنے کا عادی ہوں۔ چلتے پھرتے خود سے سوال کرتا ہوں اور خود ہی جواب دے دیتا ہوں۔ بیشمار ترین کوششوں کے بعد بھی اس عادت کو ترک نہیں کرسکا ہوں۔ اس کیفیت کے مسلط رہنے کی وجہ سے حافظہ جواب دے گیا ہے۔ ایک دوسری مصیبت یہ ہے کہ خود ہی خود تو خوب باتیں کرتا ہوں لیکن کسی دوسرے آدمی سے بات نہیں کرسکتا۔ آواز حلق میں رہ جاتی ہے۔ کئی مرتبہ ملازمت ملتے ملتے رہ گئی کیونکہ میں انٹرویو کے وقت جواب ہی نہیں دے سکا۔ آپ میری اس پریشانی کا اندازہ خود لگاسکتے ہیں۔
جواب: اس شکایت کا تعلق براہ راست دماغ سے ہے۔ اور اس کا علاج یہ ہے کہ آپ چھوہارے کھائیں۔ ترکیب یہ ہے دو چھوہارے پانی میں دھوکر ایک پاؤ دودھ میں پکائیں۔ ایک یا دو جوش کے بعد پتیلی اتار کر رکھ دیں۔ صبح پھر ایک بار جوش دیں۔ ٹھنڈا کرکے چھوہارے کھالیں اور دودھ پی لیں۔ چند ہفتے میں انشاءاللہ خود سے بات کرنے کی عادت اور دوسری شکایت ختم ہوجائے گی۔

17 اگست 1971

حق تلفی اور ناشکری سے آمدنی کے ذرائع محدود ہو جاتے ہیں

0 comments
صفیہ بانو۔ پنڈی: میرے گھر میں چھہ بیٹیاں ہیں جو جوان بیٹھی ہیں۔ پانچ سال پہلے ہمارا کاروبار بہت اچھا تھا مگر اب ہم پیسے پیسے کو محتاج ہیں۔ میرے شوہر نے اپنے بہنوئی کو کاروبار کرایا وہ صاحبِ حیثیت ہوگئے اور ہم محتاج۔ اس غربت اور تنگدستی کی وجہ سے ہماری بیٹیوں کے رشتے بھی نہیں آتے۔
جواب: تہجد کے دو نفل پڑھنے کے بعد مصلیّٰ پر بیٹھے بیٹھے تین سوبار
اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ
کا ورد کریں۔ یہ بات نوٹ کرلیں کہ آپ  کے شوہر اور آپ سے لوگوں کے حقوق کا اتلاف ہوا ہے۔ اور ناشکری سے وسائل محدود ہوجاتے ہیں۔ جس سے انسان تنگدستی اور پریشانی میں مبتلا ہوجاتا ہے توبہ استغفار کیجئے اور آئندہ اس کوتاہی کو قریب نہ پھٹکنے دیجئے۔

01 جون 1971

روحانی ڈاک خدمت خلق کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے

0 comments
روحانی ڈاک کا کالم خدمت خلق کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ ادارۂ جسارت اور اس کے منتظمین کو اس کا اجر ضرور دیں گے کہ انہوں نے اللہ کی مخلوق کی بہت بڑی ضرورت کو پورا کیا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ آپ ہر ایک کے دکھ کا مداوا ہوتے ہیں، لیکن اخبار میں ایک خاص بیماری (جنسی بیماری) جس میں آجکل کے نوجوان کثرت سے مبتلا ہیں اخبارمیں شائع نہیں کرتے ۔ میرے ایسے نا سمجھ لوگ اس بیماری میں مبتلا ہو کر عطائی حکیموں اور بناوٹی پیروں فقیروں کے چکر میں پھنس کر وقت کے ساتھ روپیہ بھی ضائع کرتے ہیں مگر کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ کسی سے کہ بھی نہیں سکتے شرم کی بات ہے ، میں وہ سب کچھ کرچکا ہوں جس کو تحریر میں نہیں لایا جاسکتا۔
جواب: ذرا ٹھنڈے دل سے سوچئے ، جب آپ انفرادی طور پر خط میں اپنے حالات وضاحت کے ساتھ نہیں لکھ سکتے ۔ تو یہی حالات اور ان کاحل اخبار میں ہم کس طرح شائع کر سکتے ہیں جبکہ اخبار میں گھروں میں عورتیں ، اوربچے بھی پڑھتے ہیں ۔ ایسے حضرات کو براہ راست جواب دے دیا جاتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ اپنا پتہ لکھا ہوا جوابی لفافہ ارسال کریں۔